بنگلورو16؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)سابق وزیر اعظم اور جنتادل (ایس) کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڈا نے نندی انفرااسٹرکچر کاریڈور (نائس ) کے خلاف کافی طویل عرصہ سے جاری اپنے احتجاج کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس احتجاج کے بے نتیجہ ہونے کی وجہ سے وہ اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ اس معاملے پر اب کسی سے رجوع ہوں گے اور نہ ہی کہیں بھی انصاف کی دہائی دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نائس کمپنی کے ذریعہ کسانوں کو انصاف دلانا ہے یا نہیں یہ فیصلہ اب وہ حکومت پر چھوڑتے ہیں۔ کافی عرصہ سے نائس کمپنی کی دھاندلیوں کے خلاف وہ تحریک چلاتے رہے ہیں ، لیکن ان کی اس تحریک کا کہیں سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔اشوک کھینی کی قیادت والی نائس کمپنی کی دھاندلیوں پر اسمبلی میں بھی بحث ہوئی ،لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس دور میں موجودہ وزیر اعلیٰ سدرامیا، سابق اسپیکر رمیش کمار اور دیگر نے نائس کمپنی کی بدعنوانیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی، لیکن اب جبکہ دونوں اقتدار پر ہیں ، اسی لئے ان لوگوں نے نائس کے متاثرین کو فراموش کردیاہے۔ نائس معاملے کی جانچ کیلئے ایک ایوان کمیٹی قائم کی گئی ، لیکن اس کمیٹی کا کیا ہوا ؟ اس سے بھی ہر کوئی واقف ہے۔ نائس کمپنی کی بدعنوانیوں کی جانچ کیلئے ایوان کمیٹی بھی بٹھائی گئی ، لیکن وہاں بھی کچھ نتیجہ برآمد نہ ہوا ، اس کمیٹی کا حشر کیا ہوا ہر کوئی اس سے واقف ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ نائس کمپنی کے خلاف جب انہوں نے احتجاج شروع کیاتو اس وقت انہیں ریاست کی ترقی کا دشمن قرار دیا گیا۔ کسانوں کے حق میں ہمیشہ مستعد رہنے والے سابق وزیراعظم پر اب شبہ کیا جانے لگا ہے ۔ان الزامات کی جانچ کی بجائے ان کی طرف سے جاری مہم کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔دیوے گوڈا نے کہاکہ اس معاملے میں ریاستی حکومت کو ہی کوئی قطعی فیصلہ لینا ہوگا۔